صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب إقبال الروم في كثرة القتل عند خروج الدجال:
باب: دجال کے زمانہ میں رومی عیسائیوں کا پیش قدمی کرنا اور قتل عام کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2899 ترقیم شاملہ: -- 7281
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتِ السَّاعَةُ، قَالَ: فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، قَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ، فَقَالَ عَدُوٌّ: يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ، قُلْتُ: الرُّومَ تَعْنِي، قَالَ: نَعَمْ، وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ، فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا، قَالَ: لَا يُرَى مِثْلُهَا، وَإِمَّا قَالَ: لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا، فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً، فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ "، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے ابن علیہ سے روایت کی۔ اور الفاظ ابن حجر کے ہیں۔ کہا: ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حمید بن بلال سے، انہوں نے ابوقتادہ عدوی سے اور انہوں نے یسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، تو ایک شخص آیا، اس کا تکیہ کلام ہی یہ تھا: عبداللہ بن مسعود! قیامت آگئی ہے۔ وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نیک لگائے ہوئے تھے (یہ بات سنتے ہی) اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر کہنے لگے: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ نہ میراث کی تقسیم ہو گی، نہ غنیمت حاصل ہونے کی خوشی، پھر انہوں نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کا رخ شام کی طرف کیا اور کہا: دشمن (غیر مسلم) اہل اسلام کے خلاف اکٹھے ہو جائیں گے، اور اہل اسلام ان کے (مقابلے کے) لیے اکٹھے ہو جائیں گے۔ میں نے کہا: آپ کی مراد رومیوں (عیسائیوں) سے ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر کہا: تمھاری اس جنگ کے زمانے میں بہت زیادہ پلٹ پلٹ کر حملے ہوں گے۔ مسلمان موت کی شرط قبول کرنے والے دستے آگے کریں گے کہ وہ غلبہ حاصل کیے بغیر واپس نہیں ہوں گے (وہیں اپنی جانیں دے دیں گے)۔ پھر وہ سب جنگ کریں گے، حتیٰ کہ رات درمیان میں حائل ہو جائے گی، یہ لوگ بھی واپس ہو جائیں گے، اور وہ بھی، دونوں (میں سے کسی) کو غلبہ حاصل نہیں ہو گا، اور (موت کی) شرط پر جانے والے سب ختم ہو جائیں گے۔ پھر مسلمان موت کی شرط پر (جانے والے دوسرے) دستے کو آگے کریں گے کہ وہ غالب آئے بغیر واپس نہیں آئیں گے، پھر (دونوں فریق) جنگ کریں گے، یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی، یہ بھی واپس ہو جائیں گے، اور وہ بھی، کوئی بھی غالب نہیں (آیا) ہو گا، اور موت کی شرط پر جانے والے ختم ہو جائیں گے۔ پھر مسلمان موت کے طلبگاروں کا دستہ آگے کریں گے، اور شام تک جنگ کریں گے، پھر یہ بھی واپس ہو جائیں گے، اور وہ بھی، کوئی بھی غالب نہیں (آیا) ہو گا، اور موت کے طلبگار ختم ہو جائیں گے۔ جب چوتھا دن ہو گا، تو باقی تمام اہل اسلام ان کے خلاف انھیں کے، اللہ تعالیٰ (جنگ کے) چکر کو ان (کافروں) کے خلاف کر دے گا، وہ سخت خونریز جنگ کریں گے، انہوں نے یا تو یہ الفاظ کہے: اس کی مثال نہیں دیکھی جائے گی، یہاں تک کہ پرندہ ان کے پہلوؤں سے گزرے گا، وہ ان سے جو نہی گزرے گا، مر جائے گا (ہوا بھی اتنی زہریلی ہو جائے گی)۔ ایک باپ کی اولاد اپنی گنتی کرے گی، جو سو تھے، تو ان میں سے ایک کے سوا کوئی نہ بچا ہو گا (اب) وہ کس غنیمت پر خوش ہوں گے، اور کیسا ورثہ (کن وارثوں میں) تقسیم کریں گے۔ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک (نئی) مصیبت کے بارے میں سنیں گے، جو اس سے بھی بڑی ہو گی۔ ان تک یہ زوردار پکار پہنچے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں تک پہنچ گیا ہے، ان کے ہاتھوں میں جو ہو گا، سب کچھ پھینک دیں گے، اور تیزی سے آئیں گے، اور دس جاسوس شہسوار آگے بیجیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کے اور ان کے آباء کے نام اور ان کے گھوڑوں (سواریوں) کے رنگ تک پہچانتا ہوں، وہ اس وقت روئے زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے، یا (فرمایا:) روئے زمین کے بہترین شہسواروں میں سے ہوں گے۔“ ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں (یسیر کے بجائے) کہا: اسیر بن جابر سے مروی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7281]
یسیر بن جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا جس کا تکیہ کلام ہی یہ تھا: اے عبداللہ بن مسعود! قیامت آگئی ہے۔ وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) ٹیک لگائے ہوئے تھے، (یہ بات سنتے ہی) اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر کہنے لگے: قیامت نہیں آئے گی، یہاں تک کہ نہ میراث کی تقسیم ہوگی اور نہ غنیمت حاصل ہونے کی خوشی ہوگی۔ پھر انہوں نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کا رخ شام کی طرف کیا اور کہا: دشمن (غیر مسلم) اہل اسلام کے خلاف اکٹھے ہو جائیں گے اور اہل اسلام ان کے (مقابلے کے) لیے اکٹھے ہو جائیں گے۔ میں نے کہا: آپ کی مراد رومیوں (عیسائیوں) سے ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: تمہاری اس جنگ کے زمانے میں بہت زیادہ پلٹ پلٹ کر حملے ہوں گے۔ مسلمان موت کی شرط قبول کرنے والے دستے آگے بھیجیں گے کہ وہ غلبہ حاصل کیے بغیر واپس نہیں ہوں گے (وہیں اپنی جانیں دے دیں گے)۔ پھر وہ سب جنگ کریں گے، حتیٰ کہ رات درمیان میں حائل ہو جائے گی۔ یہ لوگ بھی واپس ہو جائیں گے اور وہ بھی، دونوں (میں سے کسی) کو غلبہ حاصل نہیں ہوگا اور (موت کی) شرط پر جانے والے سب ختم ہو جائیں گے۔ پھر مسلمان موت کی شرط پر (جانے والے دوسرے) دستے کو آگے کریں گے کہ وہ غالب آئے بغیر واپس نہیں آئیں گے، پھر (دونوں فریق) جنگ کریں گے، یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی۔ یہ بھی واپس ہو جائیں گے اور وہ بھی، کوئی بھی غالب نہیں (آیا) ہوگا اور موت کی شرط پر جانے والے ختم ہو جائیں گے۔ پھر مسلمان موت کے طلبگاروں کا دستہ آگے کریں گے اور شام تک جنگ کریں گے، پھر یہ بھی واپس ہو جائیں گے اور وہ بھی، کوئی بھی غالب نہیں (آیا) ہوگا اور موت کے طلبگار ختم ہو جائیں گے۔ جب چوتھا دن ہوگا تو باقی تمام اہل اسلام ان کے خلاف اٹھیں گے، اللہ تعالیٰ (جنگ کے) چکر کو ان (کافروں) کے خلاف کر دے گا، وہ سخت خونریز جنگ کریں گے۔ انہوں نے یا تو یہ الفاظ کہے: اس کی مثال نہیں دیکھی جائے گی، یہاں تک کہ پرندہ ان کے پہلوؤں سے گزرے گا، وہ ان سے جوں ہی گزرے گا مر جائے گا (ہوا بھی اتنی زہریلی ہو جائے گی)۔ ایک باپ کی اولاد اپنی گنتی کرے گی، جو سو تھے، تو ان میں سے ایک کے سوا کوئی نہ بچا ہوگا۔ (اب) وہ کس غنیمت پر خوش ہوں گے اور کیسا ورثہ (کن وارثوں میں) تقسیم کریں گے؟ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک (نئی) مصیبت کے بارے میں سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی، ان تک یہ زوردار پکار پہنچے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں جو ہوگا، سب کچھ پھینک دیں گے اور تیزی سے آئیں گے اور دس جاسوس شہسوار آگے بھیجیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کے اور ان کے آباء کے نام اور ان کے گھوڑوں (سواریوں) کے رنگ تک پہچانتا ہوں، وہ اس وقت روئے زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے۔“ یا (فرمایا:) ”روئے زمین کے بہترین شہسواروں میں سے ہوں گے۔“ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یسیر کی بجائے اُسیر بن جابر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2899
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7281 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7281
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
هجيري:
عادت،
تکیہ کلام،
(2)
لايقسم،
میراث،
(3)
ولايفرح بغنيمة:
اس قدر شدیدجنگ ہوگی کہ اس میں کثرت سے لوگ مریں گے کہ کوئی وارث باقی نہیں بچے گا اور مقتولوں کی کثرت کی بنا پر کوئی غنیمت اور فتح پر خوش نہیں ہوسکے گا،
غم وحزن کا دوردور ہوگا۔
(4)
ردة شديدة:
شدید حملہ،
بھاگ کرپلٹنا۔
(5)
شرطة للموت،
ڈیٹھ گروپ،
آگے بڑھنے والا،
وہ دستہ جو غلبہ حاصل کیے بغیر زندہ واپس نہیں آئے گا۔
(6)
نهد اليهم،
ان کی طرف بڑھیں گے۔
(7)
دبرة:
ہزیمت وشکست۔
(8)
جنبات،
پہلو،
اطراف۔
(9)
يتعاد:
شمار کریں گے،
گنیں گے،
(10)
باس،
فتنه،
مصيبت،
(11)
يرفضون مافي ايديهم،
ہاتھوں میں جو مال غنیمت ہوگا،
اہل وعیال کے بارے میں پریشان ہوکر پھینک دیں گے۔
(12)
فوارس،
فارس کی جمع،
گھوڑسوار،
(13)
طليعة:
حالات کا جائزہ لینے کے لیے آگے جانے والا دستہ۔
مفردات الحدیث:
(1)
هجيري:
عادت،
تکیہ کلام،
(2)
لايقسم،
میراث،
(3)
ولايفرح بغنيمة:
اس قدر شدیدجنگ ہوگی کہ اس میں کثرت سے لوگ مریں گے کہ کوئی وارث باقی نہیں بچے گا اور مقتولوں کی کثرت کی بنا پر کوئی غنیمت اور فتح پر خوش نہیں ہوسکے گا،
غم وحزن کا دوردور ہوگا۔
(4)
ردة شديدة:
شدید حملہ،
بھاگ کرپلٹنا۔
(5)
شرطة للموت،
ڈیٹھ گروپ،
آگے بڑھنے والا،
وہ دستہ جو غلبہ حاصل کیے بغیر زندہ واپس نہیں آئے گا۔
(6)
نهد اليهم،
ان کی طرف بڑھیں گے۔
(7)
دبرة:
ہزیمت وشکست۔
(8)
جنبات،
پہلو،
اطراف۔
(9)
يتعاد:
شمار کریں گے،
گنیں گے،
(10)
باس،
فتنه،
مصيبت،
(11)
يرفضون مافي ايديهم،
ہاتھوں میں جو مال غنیمت ہوگا،
اہل وعیال کے بارے میں پریشان ہوکر پھینک دیں گے۔
(12)
فوارس،
فارس کی جمع،
گھوڑسوار،
(13)
طليعة:
حالات کا جائزہ لینے کے لیے آگے جانے والا دستہ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7281]
Sahih Muslim Hadith 7281 in Urdu
يسير بن عمرو الشيباني ← عبد الله بن مسعود