صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيتمنى ان يكون مكان الميت من البلاء:
باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2913 ترقیم شاملہ: -- 7315
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الشَّأْمِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّومِ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدَدًا "، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ، وَأَبِي الْعَلَاءِ: أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ؟، فَقَالَا: لَا،
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی اور انہوں نے ابونضرہ سے روایت کی، کہا: ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انہوں نے کہا: وہ وقت قریب ہے کہ اہل عراق کے پاس کوئی قفیر (پیمانہ) نہ آئے گا نہ درہم۔ ہم نے پوچھا: کہاں سے؟ انہوں نے کہا: عجم سے، وہ اس کو روک لیں گے۔ پھر کہا: عنقریب اہل شام کے پاس کوئی دینار نہ آئے گا نہ مدی (پیمانہ)۔ ہم نے پوچھا: کہاں سے؟ انہوں نے کہا: روم کی جانب سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے آخر (کے دور) میں ایک خلیفہ ہو گا جو لپیں بھر بھر کے مال دے گا اور اس کی گنتی نہیں کرے گا۔“ (جریری نے) کہا: میں نے ابونضرہ اور ابوالعلاء سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ عمر بن عبدالعزیز ہیں؟ تو دونوں نے کہا: نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7315]
ابو نضرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ اہل عراق کے پاس نہ «قَفِيز» ”قفیز“ لایا جائے اور نہ کوئی درہم۔ ہم نے پوچھا: یہ کس بنا پر ہوگا اور کن کی طرف سے ہوگا؟ کہنے لگے: عجمیوں کی طرف سے، وہ ان چیزوں کو روک لیں گے۔ پھر کہنے لگے: ہو سکتا ہے اہل شام کے پاس «دِينَار» ”دینار“ اور «مُدْي» ”مدی“ نہ لایا جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیوں ہوگا؟ کہنے لگے: رومیوں کی طرف سے۔ پھر وہ تھوڑی دیر چپ رہے، پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے آخری لوگوں میں ایک خلیفہ ہوگا جو لپ بھر بھر کر مال دے گا، اس کو گنے یا شمار نہیں کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاء رحمہما اللہ سے پوچھا: کیا تمہاری رائے میں یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 7315 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← جابر بن عبد الله الأنصاري