صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
ب25. باب فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ:
باب: دجال کے باب میں باقی حدیثوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2947 ترقیم شاملہ: -- 7397
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، أَوِ الدُّخَانَ، أَوِ الدَّجَّالَ، أَوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ ".
علاء کے والد (عبدالرحمٰن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک عمل کرنے میں سبقت کرو: سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، دھوئیں، دجال، زمین کے چوپائے، خاص طور پر تم میں سے کسی ایک کو پیش آنے والے معاملے (بیماری، عاجز کر دینے والا بڑھاپا یا کوئی رکاوٹ) اور ہر کسی کو پیش آنے والا معاملہ (مثلاً: اجتماعی گمراہی، فتنے کے زمانے میں قتل عام، قیامت سے پہلے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7397]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے وقوع سے پہلے پہلے نیک اعمال کر لو: مغرب سے سورج کا نکلنا، یا دھواں، یا دجال، یا دابہ (جانور)، اپنی خصوصی مدت یا خصوصی مصروفیات و مشاغل، یا عمومی فتنہ و آزمائش، یا سب کی موت (قیامت)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7397 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7397
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
امرالعامة:
ایسا فتنہ جو سب کو لپیٹ میں لےلےگا اور سب اس میں مصروف ہوجائیں گے کسی کے پاس خیرواصلاح کے لیے وقت نہیں ہوگا۔
(2)
خاصة احدكم:
اپنی شخصی مصروفیت ومشغولیت جس کی بنا پر نیکی نہیں کرسکے گااور دونوں جگہ موت بھی مراد ہوسکتی ہے یعنی قیامت قائم ہوجائے گی اس لیے اس نے اس کے بعد کسی عمل کا فائدہ نہیں ہوگا۔
مفردات الحدیث:
(1)
امرالعامة:
ایسا فتنہ جو سب کو لپیٹ میں لےلےگا اور سب اس میں مصروف ہوجائیں گے کسی کے پاس خیرواصلاح کے لیے وقت نہیں ہوگا۔
(2)
خاصة احدكم:
اپنی شخصی مصروفیت ومشغولیت جس کی بنا پر نیکی نہیں کرسکے گااور دونوں جگہ موت بھی مراد ہوسکتی ہے یعنی قیامت قائم ہوجائے گی اس لیے اس نے اس کے بعد کسی عمل کا فائدہ نہیں ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7397]
Sahih Muslim Hadith 7397 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي