🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب عقوبة من يامر بالمعروف ولا يفعله وينهى عن المنكر ويفعله:
باب: جو شخص اوروں کو نصحیت کرے اور خود عمل نہ کرے اس کا عذاب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2989 ترقیم شاملہ: -- 7484
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ فِيمَا يَصْنَعُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ.
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، کہا: ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے کہا: آپ کو کیا چیز اس سے مانع ہے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور جو وہ کر رہے ہیں اس کے بارے میں ان سے بات کریں؟ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7484]
ابووائل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتےہیں،ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضرتھے،تو ایک آدمی نے کہا،کون سی چیز تمہیں اس بات سے روکتی ہے کہ آپ عثمان کے پاس جائیں اور ان کے رویہ،طرزعمل کے بارے میں ان سے گفتگو کریں،"آگے مذکورہ بالاحدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2989
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7484 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7484
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں گفتنی اور نا گفتنی باتیں کی جاتی تھیں اور خصوصی طور پر ان کے اقربا پروری کو اچھالا جاتا تھا،
چونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ان سے خوش گوار تعلقات و مراسم تھے،
اس لیے ان سے یہ کہا گیا کہ آپ ان سے گفتگو کریں اور دوسروں کی باتوں سے آگاہ کریں،
تو انہوں نے کہا،
میں نے اسلامی اصولوں اور آداب کے مطابق قابل گفتگو معاملات میں ان سے علیحدگی میں گفتگو کی ہے اور امراوحکام سے گفتگو کاصحیح طریقہ یہی ہے کہ دینی خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبہ کے تحت صورت حال سے آگاہ کرکےنصیحت کی جائے،
ان پر کھلم کھلا ناشائستہ اور نازیبا الفاظ میں طعن وتشنیع کرنا اور کیچڑ اچھالنا تو فتنہ کا دروازہ کھولنا ہے،
جس سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے اور ایک امیر سب لوگوں سے بہتر نہیں ہوجاتا کہ اس کونصیحت و خیرخواہی کی ضرورت ہی نہ رہے،
بلکہ وہ تو بعض دفعہ اس حدیث کا بھی مصداق بن سکتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کا فرض منصبی ہے،
اس کی ادائیگی کی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دے اور خود وہ نیکی نہ کرسکے،
دوسروں کو کسی برائی سے روکے،
جبکہ خود اس کا مرتکب ہو رہا ہو أقتاب،
قِتب کی جمع ہے،
انتڑیاں،
جس طرح نیکی کا حکم دینا نیک کام ہے اس طرح نیکی نہ کرنا،
جبکہ وہ نیکی اسے کرنی چاہیے،
گناہ ہے،
اس طرح جس طرح برائی سے روکنا نیکی ہے،
اس طرح برائی کا ارتکاب کرنا جرم وگناہ ہے،
طاقت و قدرت کی صورت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے قوت استعمال کرنا ضروری ہے اور یہ بات امراء وحکام کو حاصل ہے اور اگر طاقت وقوت کا استعمال ممکن نہ ہو،
کیونکہ اختیارو اقتدارحاصل نہیں ہے،
تو پھر یہ کام زبان کے ذریعہ کیا جائے گا اور علماء کا یہی فریضہ ہے اور اگر زبان سے یہ کام ممکن نہ رہے،
تو دل میں اس کی ادائیگی کےلیے کوئی تدبیر اور حیلہ سوچنا چاہیے،
جس کو کام میں لاکر یہ فریضہ اداہو سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7484]