صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب:
باب: چھیکنے والے کا جواب اور جمائی کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 2992 ترقیم شاملہ: -- 7488
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي، فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا، قَالَتْ: عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ، فَشَمَّتُّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمِّتُوهُ فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ ".
ابوبردہ سے روایت ہے، کہا: میں (اپنے والد) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے گھر تھے۔ مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب میں دعا نہیں دی اور اس (فضل رضی اللہ عنہ کی بیٹی) کو چھینک آئی تو اس کو انہوں نے جواب میں دعا دی۔ میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انھیں بتایا، جب وہ (میرے والد) ان (میری والدہ) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: تمھارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی اور ان (فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی۔ انہوں نے کہا: تمھارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے الحمد اللہ نہیں کہا، اس لیے میں نے جواب نہیں دیا، اس (خاتون) کو چھینک آئی تو انہوں نے الحمد اللہ کہا، اس لیے میں نے ان کو جواب میں دعا دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد اللہ کہے تو اس کو جواب میں دعا دو اور اگر وہ الحمد اللہ نہ کہے تو دعا نہ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7488]
حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں (اپنے والد) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیٹی کے گھر تھے۔ مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب میں دعا نہیں دی اور اس (فضل رضی اللہ عنہما کی بیٹی) کو چھینک آئی تو اس کو انہوں نے جواب میں دعا دی، میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انہیں بتایا، جب وہ (میرے والد) ان (میری والدہ) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: تمہارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی، اور ان (فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیٹی) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی۔ انہوں نے کہا: تمہارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ نہیں کہا، اس لیے میں نے جواب نہیں دیا، اس (خاتون) کو چھینک آئی تو انہوں نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہا، اس لیے میں نے ان کو جواب میں دعا دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہے تو اس کو جواب میں دعا دو اور اگر وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» نہ کہے تو دعا نہ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2992
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7488 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7488
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی بیٹی،
ام کلثوم،
حضرت ابو موسیٰ اشعری کی دوسری بیوی تھی اور ابو بردہ کی ماں کی سوکن تھی،
اس لیے اس کو غصہ آیا اور اس نے سبب پوچھا۔
فوائد ومسائل:
حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی بیٹی،
ام کلثوم،
حضرت ابو موسیٰ اشعری کی دوسری بیوی تھی اور ابو بردہ کی ماں کی سوکن تھی،
اس لیے اس کو غصہ آیا اور اس نے سبب پوچھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7488]
Sahih Muslim Hadith 7488 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري