🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب:
باب: چھیکنے والے کا جواب اور جمائی کی کراہت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2992 ترقیم شاملہ: -- 7488
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي، فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا، قَالَتْ: عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ، فَشَمَّتُّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمِّتُوهُ فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ ".
ابوبردہ سے روایت ہے، کہا: میں (اپنے والد) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے گھر تھے۔ مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب میں دعا نہیں دی اور اس (فضل رضی اللہ عنہ کی بیٹی) کو چھینک آئی تو اس کو انہوں نے جواب میں دعا دی۔ میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انھیں بتایا، جب وہ (میرے والد) ان (میری والدہ) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: تمھارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی اور ان (فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی۔ انہوں نے کہا: تمھارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے الحمد اللہ نہیں کہا، اس لیے میں نے جواب نہیں دیا، اس (خاتون) کو چھینک آئی تو انہوں نے الحمد اللہ کہا، اس لیے میں نے ان کو جواب میں دعا دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ فرماتے تھے: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد اللہ کہے تو اس کو جواب میں دعا دو اور اگر وہ الحمد اللہ نہ کہے تو دعا نہ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7488]
حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں (اپنے والد) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیٹی کے گھر تھے۔ مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب میں دعا نہیں دی اور اس (فضل رضی اللہ عنہما کی بیٹی) کو چھینک آئی تو اس کو انہوں نے جواب میں دعا دی، میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انہیں بتایا، جب وہ (میرے والد) ان (میری والدہ) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: تمہارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی، اور ان (فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیٹی) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی۔ انہوں نے کہا: تمہارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں نہیں کہا، اس لیے میں نے جواب نہیں دیا، اس (خاتون) کو چھینک آئی تو انہوں نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہا، اس لیے میں نے ان کو جواب میں دعا دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہے تو اس کو جواب میں دعا دو اور اگر وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» نہ کہے تو دعا نہ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2992
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عاصم بن كليب الجرمي
Newعاصم بن كليب الجرمي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥القاسم بن مالك المزني، أبو جعفر
Newالقاسم بن مالك المزني ← عاصم بن كليب الجرمي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← القاسم بن مالك المزني
ثقة حافظ
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7488 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7488
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی بیٹی،
ام کلثوم،
حضرت ابو موسیٰ اشعری کی دوسری بیوی تھی اور ابو بردہ کی ماں کی سوکن تھی،
اس لیے اس کو غصہ آیا اور اس نے سبب پوچھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7488]

Sahih Muslim Hadith 7488 in Urdu