صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب حديث جابر الطويل وقصة ابي اليسر:
باب: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث اور قصہ ابی الیسر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 3011 ترقیم شاملہ: -- 7517
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قُوتُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً، فَكَانَ يَمَصُّهَا ثُمَّ يَصُرُّهَا فِي ثَوْبِهِ وَكُنَّا نَخْتَبِطُ بِقِسِيِّنَا، وَنَأْكُلُ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، فَأُقْسِمُ أُخْطِئَهَا رَجُلٌ مِنَّا يَوْمًا، فَانْطَلَقْنَا بِهِ نَنْعَشُهُ، فَشَهِدْنَا أَنَّهُ لَمْ يُعْطَهَا، فَأُعْطِيَهَا، فَقَامَ فَأَخَذَهَا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک مہم پر) گئے۔ ہم میں سے ہر شخص کی خوراک روز کی ایک کھجور تھی وہ اس کھجور کو چوستا رہتا اور پھر اس کو اپنے کپڑے میں لپیٹ لیتا ہم اپنی کمانوں سے درختوں کے پتے جھاڑتے تھے اور کھاتے تھے حتیٰ کہ ہماری باچھوں میں زخم ہوئے۔ قسم کھاتا ہوں کہ ایک دن ہم میں سے ایک غلطی سے اس (ایک کھجور) سے محروم رہ گیا ہم اسے (سہارا دے کر) اٹھاتے ہوئے لے کر (تقسیم کرنے والے کے پاس) گئے۔ اور اس کے حق میں گواہی دی کہ اسے وہ (ایک کھجور) نہیں دی گئی۔ وہ اسے دی گئی تو اس نے خود کھڑے ہو کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7517]
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے اور روزانہ ہم میں سے ہر آدمی کی خوراک ایک کھجورتھی،جسے وہ چوستا،پھر اسے اپنے کپڑے میں باندھ لیتا(تاکہ پھر چوس سکے)اورہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور کھالیتے،حتیٰ کہ ہماری باچھیں چھل گئیں،میں قسم کھاتا ہوں،ایک دن ہم میں سے ایک آدمی کو چوک کرنہ دی گئی،تو ہم اس کو اٹھا کرلے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اس کو کھجور نہیں دی گئی،تو اسے کھجور دی گئی اور اس نے کھڑے ہوکر کھالی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7517]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3011
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7517 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7517
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يصرها:
وہ اسےباندھ یا لپیٹ لیتا۔
(2)
نختبط:
ہم پتے جھاڑتے۔
(3)
نعشه:
ہم اس کو سہارے سے اٹھاتے تھے اور بقول قاضی عیاض،
ہم اس کے دعویٰ کو مضبوط کرتے تھے کہ واقعی غلطی سے اس کو کھجور نہیں دی ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
يصرها:
وہ اسےباندھ یا لپیٹ لیتا۔
(2)
نختبط:
ہم پتے جھاڑتے۔
(3)
نعشه:
ہم اس کو سہارے سے اٹھاتے تھے اور بقول قاضی عیاض،
ہم اس کے دعویٰ کو مضبوط کرتے تھے کہ واقعی غلطی سے اس کو کھجور نہیں دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7517]