صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في تفسير آيات متفرقة
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3018 ترقیم شاملہ: -- 7531
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَعْضِلُهَا فَلَا يَتَزَوَّجُهَا وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ ".
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم وہ (مہر) نہیں دیتے جو ان کے حق میں فرض ہے اور ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔" کے بارے میں روایت بیان کی۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے (شادی کرنے سے) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس (شخص) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھائے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتا ہے اور نہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7531]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ عزوجل کے فرمان:"جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم دو(مہر)نہیں دیتے جوان کے حق میں فرض ہے اوران کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔کے بارے میں روایت بیان کی۔ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے)کہا:یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی،اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے(شادی کرنے سے)کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس (شخص)کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھا ئے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتاہے اورنہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے۔(اس حرکت سے منع کیا گیا ہے) [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7531]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد عبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبدة بن سليمان الكوفي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7531 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7531
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حجرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے،
اگر بچی کا حسن و جمال کم ہے،
لیکن وہ مال دار ہے،
تو اس کے سرپرست کے لیےمال کی لالچ وحرص میں یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی شادی ہی نہ کرے،
اس کو دوصورتوںمیں سے ایک کو اختیار کرنایاتوخود شادی کرلے اور اس کو اس کی حیثیت اور معیارکے مطابق مہر دے اور حسن معاشرسے کام لے،
یا پھر اس کی آگے شادی کردے۔
فوائد ومسائل:
حجرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے،
اگر بچی کا حسن و جمال کم ہے،
لیکن وہ مال دار ہے،
تو اس کے سرپرست کے لیےمال کی لالچ وحرص میں یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی شادی ہی نہ کرے،
اس کو دوصورتوںمیں سے ایک کو اختیار کرنایاتوخود شادی کرلے اور اس کو اس کی حیثیت اور معیارکے مطابق مہر دے اور حسن معاشرسے کام لے،
یا پھر اس کی آگے شادی کردے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7531]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق