صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في تفسير آيات متفرقة
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3025 ترقیم شاملہ: -- 7548
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ، فَنَزَلَتْ 0 وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا 0 وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ ".
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو ملے جو بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے (ان کو دیکھ کر) کہا: السلام علیکم۔ تو (اس کے باوجود) انہوں نے اس کو پکڑا اسے قتل کیا اور بکریوں کا وہ چھوٹا سا ریوڑ لے لیا۔ تو یہ آیت اتری: "اور اسے جو تم سے سلام کہے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس (السلم) کو السلام پڑھا۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7548]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں کی ایک آدمی سے اس کی چند بکریوں کے ساتھ ملاقات ہوئی، تو اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“، سو انہوں نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا اور ان چند بکریوں پر قبضہ کر لیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ [سورة النساء: 94] ”جو شخص تم کو سلام پیش کرے، اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو“، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «السَّلَمَ» کی جگہ «السَّلَامَ» پڑھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7548]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3025
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7548 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7548
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حافظ ابن حجر رحمہُ اللہُ نے اسی آیت کے شان نزول میں مختلف واقعات بیان کیے ہیں اور ایسے سب واقعات اس آیت کا مصداق ہوں گے،
کیونکہ اصل مقصد تو یہ ہے،
اسلام کا اظہار کرنے والے پر بلاوجہ بدگمانی کرنا صحیح نہیں ہے،
اس کو اس وقت تک مسلمان تصور کیا جائے گا،
جب تک اس سے اس دعویٰ کے خلاف کوئی حرکت سرزد نہ ہو اور اس آیت میں لفظ السلم كو السلام اور السِلم بھی پڑھا گیا ہے،
مقصود ایک ہی ہے۔
فوائد ومسائل:
حافظ ابن حجر رحمہُ اللہُ نے اسی آیت کے شان نزول میں مختلف واقعات بیان کیے ہیں اور ایسے سب واقعات اس آیت کا مصداق ہوں گے،
کیونکہ اصل مقصد تو یہ ہے،
اسلام کا اظہار کرنے والے پر بلاوجہ بدگمانی کرنا صحیح نہیں ہے،
اس کو اس وقت تک مسلمان تصور کیا جائے گا،
جب تک اس سے اس دعویٰ کے خلاف کوئی حرکت سرزد نہ ہو اور اس آیت میں لفظ السلم كو السلام اور السِلم بھی پڑھا گیا ہے،
مقصود ایک ہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7548]
Sahih Muslim Hadith 7548 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي