صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب في قوله تعالى: {اولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة}:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: «أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ» ”یہ لوگ جن میں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ“۔
ترقیم عبدالباقی: 3030 ترقیم شاملہ: -- 7554
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ سورة الإسراء آية 57، قَالَ: كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا، وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ ".
عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو گا۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہو گئی تھی اور (اس سے پہلے) ان کی پوجا کی جاتی تھی، تو جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کی عبادت پر قائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7554]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی:"وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا۔"(ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا:جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور(اس سے پہلے) ان کی پوجاکی جاتی تھی،تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے،ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7554 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7554
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
وسیلہ کا معنی تقرب و نزدیکی ہے،
مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کی یہ مشرک بندگی کرتے ہیں،
وہ جن ہوں،
یا ملائکہ یا انبیاء،
وہ توخود اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کی اطاعت کرتے ہیں،
وہ کیسے چاہ سکتے ہیں کہ کوئی ان کی عبادت یا بندگی کرے۔
فوائد ومسائل:
وسیلہ کا معنی تقرب و نزدیکی ہے،
مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کی یہ مشرک بندگی کرتے ہیں،
وہ جن ہوں،
یا ملائکہ یا انبیاء،
وہ توخود اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کی اطاعت کرتے ہیں،
وہ کیسے چاہ سکتے ہیں کہ کوئی ان کی عبادت یا بندگی کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7554]
عبد الله بن سخبرة الأزدي ← عبد الله بن مسعود