🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب نسخ: «الوضوء مما مست النار»:
باب: ایسی چیز سے وضو کا حکم منسوخ ہونا جسے آگ نے چھوا ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 359 ترقیم شاملہ: -- 800
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأُتِيَ بِهَدِيَّةٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَأَكَلَ ثَلَاثَ لُقَمٍ، ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَمَا مَسَّ مَاءً "،
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے زیب تن فرمائے، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا، آپ نے تین لقمے تناول فرمائے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 800]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے پہنے، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لقمے تناول فرمائے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 800]
ترقیم فوادعبدالباقی: 359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥محمد بن عمرو العامري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو العامري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو الديلي
Newمحمد بن عمرو الديلي ← محمد بن عمرو العامري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← محمد بن عمرو الديلي
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 800 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 800
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
امام مسلم پہلے ان روایات کو لائے ہیں،
جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا پڑتا ہے اس کے بعد وہ احادیث لائے ہیں،
جن سے ثابت ہوتا ہےکہ آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا،
اس اسلوب اور انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مسلم کے نزدیک پہلی قسم کی روایات منسوخ ہیں،
اس لیے عربی نسخہ میں دونوں قسم کی احادیث پر الگ الگ باب قائم کیے گئے ہیں،
اگرچہ برصغیر کے نسخوں میں دونوں قسم کی احادیث پر (الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ)
کا باب قائم کیا گیا ہے اور وضو کے حکم کی صراحت نہیں کی گئی۔
(2)
جمہور سلف وخلف،
صحابہ و تابعین اور آئمہ اربعہ کا قول یہی ہے کہ آگ پر پکے کھانے کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا،
لیکن بعض تابعین،
عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ،
زہری رحمۃ اللہ علیہ،
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ،
اور ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے صحیح نظریہ،
جمہور کا ہے کیونکہ خلفائے راشدین کا عمل اس کا مؤید ہے،
اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث نسخ پر صراحتاً دلالت کرتی ہے۔
(3)
کھانے کے بعد نماز والے وضو کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہاتھ اور منہ کی صفائی کے لیے بہتر ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ منہ دھو لیے جائیں،
کیونکہ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ منہ کھانے سے متاثر ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کی چکناہٹ کی بنا پر کلی کی ہے۔
آج کل کھانے چکناہٹ سے بھرپور ہوتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 800]