مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْوَقُوفُ احْتِرَامًا لِلْجُنَازَةِ)
جنازےکے احترام میں کھڑے ہونا
حدیث نمبر: 1680
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 1680 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهُمَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، أَيْ: مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ. فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ:"أَلَيْسَتْ نَفْسًا"؟. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں، سہیل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں تشریف فرما تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے، انہیں بتایا گیا کہ یہ ذمی شخص کا جنازہ ہے، ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے، آپ کو بتایا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ جان نہیں؟“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1312) و مسلم (961/81)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 1680 in Urdu