مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَجْرُ الْوَلَدِ الصَّغِيرِ عَلَى وَفَاتِهِ)
چھوٹے بچے کی وفات پر اجر و ثواب
حدیث نمبر: 1735
1735 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مَنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ، فَقَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي، لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس شخص کے دو بچے پیش رو ہوں (یعنی فوت ہو جائیں) تو اللہ ان کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، آپ کی امت میں سے جس کا ایک پیش رو ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «مُوَفَّقَةُ» (جس کو توفیق دی گئی ہو)! جس کا ایک پیش رو ہو (وہ بھی جنتی ہے)۔“ انہوں نے عرض کیا، آپ کی امت میں سے جس کا ایک بھی پیش رو نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت کا پیش رو ہوں گا، انہیں میری مثل کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔“ ترمذی، اور انہوں نے کہا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1062)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 1735 in Urdu