مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يَجُوزُ اسْتِخْدَامُ الأَشْيَاءِ الطَّازَجَةِ وَتَصْدِيقُهَا دُونَ إِذْنٍ)
تازہ چیزیں اجازت کے بغیر استعمال کرنا اور صدقہ میں دینا جائز ہے
حدیث نمبر: 1952
1952 - وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءُ، قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ:"الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ایک باوقار (بلند قامت) خاتون کھڑی ہوئی گویا وہ مضر قبیلے کی خاتون تھی، اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم اپنے باپوں، بیٹوں اور شوہروں پر بوجھ ہیں، سو ان کے اموال میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تروتازہ چیزیں جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ کرتی ہو۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (1686)
٭ زياد بن جبير عن سعد مرسل (انظر المراسيل لابن أبي حاتم ص 61)»
٭ زياد بن جبير عن سعد مرسل (انظر المراسيل لابن أبي حاتم ص 61)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 1952 in Urdu