مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (اخْتِيَارُ الإِبْقَاءِ عَلَى السُّودَا أَوْ إِلْغَائِهَا قَبْلَ التَّفَرُّقِ)
سودا رکھنے یا ختم کر دینے کا اختیار جدا ہونے سے پہلے تک
حدیث نمبر: 2804
الْفَصْلُ الثَّانِي 2804 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ"الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں کو جدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہوتا ہے الا یہ کہ بیعِ خیار ہو، اور اس کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر اپنے ساتھی سے جدا ہونا جائز نہیں کہ وہ اس (بیع) کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے۔“ (حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی) [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1247 وقال: حسن) و أبو داود (3456) والنسائي (251/7. 252 ح 4488)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 2804 in Urdu