مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا يَجُوزُ أَيُّ نَوْعٍ مِنَ الزِّينَةِ أَثْنَاءَ الْعِدَّةِ)
دوران عدت کسی طرح کی بھی زیب و زینت جائز نہیں
حدیث نمبر: 3329
3329 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا، أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا"مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:"لَا". قَالَ:"إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ."مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے، کیا میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا دوں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ دو بار یا تین بار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر بار یہی فرماتے: ”نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (عدت) چار ماہ دس دن ہے، جبکہ دورِ جاہلیت میں تم میں سے ہر کوئی سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔“ (ایک سال بعد عدت ختم ہوتی تھی) متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5336) و مسلم (1488)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 3329 in Urdu