مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (نَحْلَةُ الْعَسَلِ)
شہد کی مکھی
حدیث نمبر: 4146
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4146 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، وَتَلَا قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً الْآيَةَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اہل جاہلیت کچھ چیزیں کھایا کرتے تھے اور کچھ چیزیں بطور کراہت چھوڑ دیا کرتے تھے، اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اپنی کتاب نازل فرمائی، اس نے حلال کردہ چیزوں کو حلال اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا، پس اس نے جن چیزوں کو حلال کیا وہ حلال ہیں اور جن کو حرام کیا وہ حرام ہیں، اور جس سے خاموشی اختیار کی تو وہ قابلِ مؤاخذہ نہیں، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُل لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ﴾ [سورة الأنعام: 145] ”فرما دیجیے! میری طرف جو وحی کی گئی ہے، میں اس میں کھانے والے کے لیے جو وہ کھاتا ہے، مردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز حرام نہیں پاتا۔“ إسناده صحيح، رواه أبو داود۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4146]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (3800)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 4146 in Urdu