مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَالُ اثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ)
دو جہنمیوں کا حال
حدیث نمبر: 5341
5341 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا ، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جہنم کی آگ پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا دیکھا، اس نے اسے باندھ رکھا تھا، اس نے اسے نہ خود کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کھا سکے اسی حال وہ بھوکی مر گئی، اور میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم ایجاد کی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (9/ 904)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 5341 in Urdu