علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الأعمال المحببة عند الله تعالى)
گناہ کے ارتکاب کے بعد فکرمند ہونا
حدیث نمبر: 567
567 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ. وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ. قَالَ:"فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ ـ أَوْ حَدَّكَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی آیا، اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں موجب حد والا عمل کر بیٹھا ہوں، لہذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں، راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس (عمل) کے متعلق کچھ دریافت نہ کیا، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا کر چکے تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا، اللہ کے رسول! میں (نے ایسا کام کیا ہے کہ) حد کو پہنچ چکا ہوں، لہذا آپ میرے متعلق اللہ کا حکم نافذ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ اس نے عرض کیا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نےتمہارے گناہ یا تمہاری حد کو معاف فرما دیا۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6833) و مسلم (2764/44)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 567 in Urdu