🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَجِيءُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ)
جبرائیل علیہ السلام کی آمد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5841
5841 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ  ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدَ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى خَدِيجَةَ. فَيَتَزَوَّدَ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقَالَ: (مَا أَنَا بِقَارِئٍ) . قَالَ:"فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ فِي الْجَهْدِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ) . فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: (زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي) فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا: (لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي) فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا، وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّعِيفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ابْنِ عَمِّ خَدِيجَةَ. فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرَ مَا رَأَى. فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا هُوَ النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟) قَالَ: نَعَمْ ؛ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرُكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوَفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا آغاز سچے اور پاکیزہ خوابوں سے ہوا، آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح (سچا) ثابت ہو جاتا، پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے، آپ غارِ حرا میں خلوت فرمایا کرتے تھے، آپ اپنے اہل خانہ کے پاس آنے سے پہلے کئی کئی راتیں وہاں عبادت میں مشغول رہتے تھے اور ان ایام کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور اتنی ہی مدت کے لیے پھر زادِ راہ ساتھ لے جاتے تھے، یہاں تک کہ آپ غارِ حرا ہی میں تھے کہ آپ پر حق (وحی) آگیا، فرشتہ (جبریل علیہ السلام) آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا: ”پڑھیے“، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھے پکڑا اور اتنی شدت سے دبایا جس سے مجھے کافی تکلیف ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے، میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اس نے مجھے پکڑ کر دوسری مرتبہ خوب دبایا، مجھے اس بار بھی کافی تکلیف ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے، میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا، اس نے مجھے تیسری مرتبہ دبایا اس بار بھی مجھے کافی تکلیف ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 1-5] ”پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا فرمایا، اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا، پڑھیے، آپ کا رب بہت ہی کرم کرنے والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا، انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بعد واپس ہوئے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل (خوف کی وجہ سے) دھڑک رہا تھا، آپ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو“، انہوں نے آپ کو کمبل اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف جاتا رہا تو آپ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: ”مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے۔“ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، راست گو ہیں، درد مندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دستوں کے لیے کماتے ہیں، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں، اور مصیبت زدہ افراد کی اعانت کرتے ہیں، پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، انہوں نے ان سے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنیں، ورقہ نے آپ سے کہا: بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دیکھا تھا وہ سب اسے بتا دیا، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی «النَّامُوسُ» ”ناموس“ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی دے کر بھیجا تھا، کاش! میں اس وقت توانا ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟“ اس نے کہا: ہاں، جب بھی کوئی شخص اس طرح کا پیغام (منصبِ نبوت) لے کر آیا تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارا زمانہ پا لیا تو میں تمہاری زبردست مدد کروں گا، پھر ورقہ جلد ہی وفات پا گئے اور کچھ عرصہ کے لیے وحی رک گئی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5841]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3) و مسلم (253 / 160)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه


Mishkat al-Masabih Hadith 5841 in Urdu