مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَبُولُ دُعَاءِ النَّبِيِّ... مَطَرٌ لِمُدَّةِ أُسْبُوعٍ)
دعائے نبوی کی قبولیت دعا۔۔۔ ایک ہفتہ تک بارش
حدیث نمبر: 5902
5902 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا . فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَمِنَ الْغَدِ، وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ - أَوْ غَيْرُهُ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ، وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) . فَمَا يُشِيرُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ، وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ) . قَالَ: فَأَقْلَعَتْ، وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں لوگ قحط سالی کا شکار ہو گئے، اس دوران کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے، ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے، اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ بلند فرمائے، اس وقت ہم آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا تک نہیں دیکھ رہے تھے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی انہیں نیچے نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح بادل چھا گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ میں نے بارش کے قطرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھے، اس روز، اگلے روز، یہاں تک کہ دوسرے جمعے تک بارش ہوتی رہی، پھر دوسرے جمعہ کو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مکان گر گئے اور مال ڈوب گیا، آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے آس پاس بارش برسا، ہم پر نہ برسا“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادلوں کے جس کونے کی طرف اشارہ فرماتے تو ادھر سے بادل چھٹ جاتا اور مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا، جبکہ وادی قناۃ کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا، اور مدینہ کے آس پاس سے جو بھی آتا وہ خوب سیرابی کی بات کرتا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! ہمارے آس پاس بارش برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! ٹیلوں پر، پہاڑوں پر، وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر بارش برسا“، راوی بیان کرتے ہیں کہ بارش تھم گئی اور ہم نکلے تو ہم دھوپ میں چل رہے تھے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5902]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (933) و مسلم (8، 9 / 897)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 5902 in Urdu