🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تسابيح دخول وخروج ٱلمسجد)
مسجد کے اندر جاتے اور باہر آتے وقت کی تسبیحات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَتِهِمَا قَالَتْ: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَكَذَا إِذَا خَرَجَ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» بَدَلَ: صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تدْرك فَاطِمَة الْكُبْرَى
فاطمہ بنت حسین ؒ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر صلاۃ و سلام ہو، اور فرماتے: میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور جب آپ مسجد سے باہر نکلتے تو فرماتے: محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر صلاۃ و سلام ہو۔ اور فرماتے: میرے رب! میرے گناہ بخش دے، اور میرے لیے فضل کے دروازے کھول دے۔ ترمذی، احمد، ابن ماجہ اور ان دونوں کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب آپ باہر تشریف لاتے تو محمد پر صلاۃ وسلام ہو کے بجائے: اللہ کے نام سے، اور رسول اللہ پر سلام ہو۔ کے الفاظ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی نے فرمایا: اس کی سند متصل نہیں، فاطمہ بنت حسین ؒ کی فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (314) و أحمد (282/6 ح 26948) و ابن ماجه (771)
٭ ليث بن أبي سليم: ضعيف من جھة حفظه، و مدلس و السند منقطع، و حديث مسلم (713 ب) يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

Mishkat al-Masabih Hadith 731 in Urdu