مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 11759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ سُورَتَيْنِ، فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا , قَالَ: فَقَالَ:" لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتْ النَّاسَ"، وَأَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي، فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَلَا أَصْبِرُ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ:" فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11759]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري | ثقة ثبت | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان | ثقة حافظ | |
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله جرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
أبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري