مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 12180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ غَالِبٍ ، هَكَذَا قَالَ وَكِيعٌ: غَالِبٍ، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ، نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، فَقَالَ: احْفَظُوا".
مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد رحمہ اللہ کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12180]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حزور الباهلي، أبو غالب حزور الباهلي ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق يخطئ | |
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر همام بن يحيى العوذي ← حزور الباهلي | ثقة | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← همام بن يحيى العوذي | ثقة حافظ إمام |
حزور الباهلي ← أنس بن مالك الأنصاري