مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسند على بن ابي طالب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي، لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ، وَلَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ، وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ، فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى، وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ، وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ، وَلَا تَتَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ، وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”علی! میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں، اور تمہارے لئے وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں، رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت نہ کیا کرو، بالوں کی مینڈھیاں بنا کر نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیطان کا طریقہ ہے، دو سجدوں کے درمیان اپنی سرین پر مت بیٹھو، کنکریوں کے ساتھ دوران نماز مت کھیلو، سجدے میں اپنے بازو زمین پر مت بچھاؤ، امام کو لقمہ مت دو، سونے کی انگوٹھی مت پہنو، ریشمی لباس مت پہنو، اور سرخ زین پوش پر مت سوار ہوا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1244]
حکم دارالسلام: هذا اسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور، ثم هو منقطع، أبو اسحاق لم يسمعه من الحارث
الرواة الحديث:
الحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي