مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 12494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً، فَانْطَلَقَ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، قَدْ اسْتَبْرَأَ لَهُمْ الصَّوْتَ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا، وَقَالَ لِلْفَرَسِ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ"، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ الْفَرَسُ قَبْلَ ذَلِكَ يُبَطَّأُ، قَالَ: مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، حالانکہ پہلے وہ گھوڑا سست تھا لیکن اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12494]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد يونس بن محمد المؤدب ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري