مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، قَالَ: فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا، أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کجھور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک انصاری عورت جس کا غلام بڑھی تھا اس نے کہا یا رسول اللہ! میرا غلام بڑھائی ہے کیا میں اسے آپ کے لئے منبر بنانے کا حکم نہ دیدوں کہ اس پر خطبہ ارشاد فرمایا: کر یں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں چنانچہ منبر تیار ہو گیا اور جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطبہ دینے کے لئے تشریف فرما ہوئے تو وہ ستون جس کے ساتھ آپ ٹیک لگایا کرتے تھے بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس لئے رو رہا ہے کہ ذکر الٰہی اس کے پاس سے مفقود ہو گیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14206]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 449
الرواة الحديث:
أيمن ابن أم أيمن الحبشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري