مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. مسند أبى إسحاق سعد بن أبى وقاص رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ , حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ أَخَاهُ عُمَرَ انْطَلَقَ إِلَى سَعْدٍ فِي غَنَمٍ لَهُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ , قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ , فَلَمَّا أَتَاهُ , قَالَ: يَا أَبَةِ، أَرَضِيتَ أَنْ تَكُونَ أَعْرَابِيًّا فِي غَنَمِكَ، وَالنَّاسُ يَتَنَازَعُونَ فِي الْمُلْكِ بِالْمَدِينَةِ؟ فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ، وَقَالَ: اسْكُتْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَبْدَ: التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ".
عامربن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عمر مدینہ منورہ سے باہر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا (تو وہ پریشان ہوگئے کہ اللہ خیر کرے، کوئی اچھی خبر لے کر آیا ہو) اور کہنے لگے کہ اس سوار کے پاس اگر کوئی بری خبر ہے تو میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، جب وہ ان کے قریب پہنچے تو کہنے لگے: اباجان! لوگ مدینہ منورہ میں حکومت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں، اور آپ دیہاتیوں کی طرح اپنی بکریوں میں مگن ہیں؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: خاموش رہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بےنیاز ہو اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1441]
حکم دارالسلام: إسناده قوي ، م : 2965
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1441 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري