مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ، فَجَاءَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ عَنِ افْتِرَاقِ النَّاسِ، وَمَا أَحْدَثُوا، فَجَعَلَ جَابِرٌ يَبْكِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ایک پڑوسی کہتا ہے کہ میں ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مجھے سلام کرنے کے لئے تشریف لائے میں انہیں یہ بتانے لگا کہ لوگ کسی طرح آپس میں افتراق کا شکار ہیں اور انہوں نے کیا کیا بدعات تیار کر لی ہیں جسے سن کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر کہنے لگے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ اب فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہو گئے عنقریب اسی طرح فوج درفوج نکل بھی جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14696]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة جار جابر بن عبدالله
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← جابر بن عبد الله الأنصاري