مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. مسند أبى إسحاق سعد بن أبى وقاص رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ،" َمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، مَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي عَلَى الْإِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذَنْ وَضَلَّ سَعْيِي.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو سات میں کا ساتواں آدمی پایا ہے (جس نے اسلام قبول کیا ہو)، اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لئے سوائے انگور کی شاخوں اور پتوں کے کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی تھی، اور ہم میں سے ہر ایک اس طرح مینگنی کرتا تھا جیسے بکری مینگنی کرتی ہے، اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہیں ملتی تھی، اور آج بنو اسد کے لوگ مجھ ہی کو میرے اسلام پر ملامت کرتے ہیں، تب تو میں بڑے خسارے میں رہا اور میری ساری محنت برباد ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1498]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5412، م: 2966 .
الرواة الحديث:
قيس بن أبي حازم البجلي ← سعد بن أبي وقاص الزهري