مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 15233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَثَلُ الْمَدِينَةِ كَالْكِيرِ , وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ , وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ , وَهِيَ كَمَكَّةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهَا , لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ , إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ مِنْهَا , وَلَا يَقْرَبُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الطَّاعُونُ , وَلَا الدَّجَّالُ , وَالْمَلَائِكَةُ يَحْرُسُونَهَا عَلَى أَنْقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے سیدنا ابراہیم نے مکہ مکر مہ کو حرام قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں لہذا مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی حصہ اور اس کی چراگاہیں مکمل طور پر حرم ہیں جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو کھلائے اور ان شاء اللہ طاعون اور دجال اس کے قریب بھی نہ آسکے گا اس کے تمام سوراخوں اور دروازوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 15233]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الرواة الحديث:
حدیث نمبر: 15233
قَالَ: وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحْمِلُ فِيهَا سِلَاحًا لِقِتَالٍ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ میں کسی کے لئے قتال کی نیت سے اسلحہ اٹھاناجائز اور حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 15233]
حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، م: 1356 لكن جعله فى مكة وليس في المدينة
Musnad Ahmad Hadith 15233 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري