مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
149. حديث عامر بن ربيعة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 15673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْقَبْرُ؟" قَالُوا: قَبْرُ فُلَانَةَ , قَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟" قَالُوا: كُنْتَ نَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ" , فَصَفَّ عَلَيْهَا فَصَلَّى.
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی قبر پر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے لوگوں نے بتایا فلاں عورت کی قبر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں لوگوں نے عرض کیا: کہ آپ سوئے ہوئے تھے آپ کو جگانا ہمیں اچھا معلوم نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کر و بلکہ جنازے میں بلالیا کر و اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی قبر پر صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھائی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15673]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي