مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
292. حديث قيس بن ابي غرزة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 16134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة َ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنَ اسْمِنَا إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16134]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16134 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← قيس بن أبي غرزة الغفاري