🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. حديث عبد الرحمن بن عوف الزهري رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو , سَمِعَ بَجَالَةَ ، يَقُولُ:" كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ، أَنْ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: وَسَاحِرَةٍ , وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ الْمَجُوسِ، وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ، فَقَتَلْنَا: ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ، وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ حَرِيمَتِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَصَنَعَ جَزْءٌ طَعَامًا كَثِيرًا، وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ، وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ، وَأَكَلُوا مِنْ غَيْرِ زَمْزَمَةٍ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ، حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ، وقَالَ أَبِي: قَالَ سُفْيَانُ: حَجَّ بَجَالَةُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَةَ سَبْعِينَ.
بجالہ کہتے ہیں کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ان کی وفات سے ایک سال پہلے خط آیا، جس میں لکھا تھا کہ ہر جادوگر کو قتل کر دو، مجوس میں جن لوگوں نے اپنے محرم رشتہ داروں سے شادیاں کر رکھی ہیں، ان میں تفریق کرا دو، اور انہیں زمزمہ (کھانا کھاتے وقت مجوسی ہلکی آواز سے کچھ پڑھتے تھے) سے روک دو۔ چنانچہ ہم نے تین جادوگر قتل کیے، اور کتاب اللہ کی روشنی میں مرد اور اس کی محرم بیوی کے درمیان تفریق کا عمل شروع کر دیا۔ پھر جزء نے ایک مرتبہ بڑی مقدار میں کھانا تیار کروایا، اپنی ران پر تلوار رکھی اور مجوسیوں کو کھانے کے لئے بلایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کے برابر وزن کی چاندی لا کر ڈھیر کر دی اور بغیر زمزمے کے کھانا کھا لیا۔ نیز پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے لیکن جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر نامی علاقے کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا تو انہوں نے بھی مجوسیوں سے جزیہ لینا شروع کر دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ بجالہ نے مصعب کے ساتھ سنہ 70ھ میں حج کیا تھا۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1657]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3156.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عوف الزهري، أبو محمدصحابي
👤←👥بجالة بن عبدة التميمي
Newبجالة بن عبدة التميمي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← بجالة بن عبدة التميمي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
Musnad Ahmad Hadith 1657 in Urdu