مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
438. حديث جبير بن مطعم رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 16739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَمْزُهُ وَنَفْثُهُ وَنَفْخُهُ؟، قَالَ:" أَمَّا هَمْزُهُ فَالْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ".
سیدنا جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں نے نوافل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا، تین مرتبہ والحمدللہ کثیرا اور تین مرتبہ سبحان اللہ بکر ۃ واصیلا اور یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں شیطان مردوں کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!! ہمز، نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمز سے مراد وہ موت ہے جو ابن آدم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16739]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الراوي عن نافع بن جبير ، وقد اختلف فى اسمه على عمرو بن مرة
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16739 in Urdu
نافع بن جبير النوفلي ← جبير بن مطعم القرشي