یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
517. حديث ابي جهيم بن الحارث بن الصمة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 17542
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، أَخْبَرَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ هَذَا: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ، فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، ایک کی رائے یہ تھی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کو سات حرفوں پر پڑھا جاسکتا ہے اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17542]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 17542 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← الحارث بن الصمة الأنصاري