مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
601. حديث عطية السعدي رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 17985
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: إِذْ أُدْخِلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ، ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَطِيَّةَ ، وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ، وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ، فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ" .
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عروہ بن محمد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے وہ غصے میں آگئے، جب انہیں غصہ زیادہ محسوس ہونے لگا تو وہ اٹھ کر چلے گئے، تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو انہوں نے وضو کیا ہوا تھا اور کہنے لگے کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف بھی حاصل تھا، بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غصہ شیطان کا اثر ہوتا ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے، اس لئے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17985]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو وائل ضعيف، والد عروة بن محمد مجهول، وقد انفرد بهذا الحديث
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عطية بن عروة السعدي | صحابي | |
👤←👥محمد بن عطية السعدي، أبو عبد الله محمد بن عطية السعدي ← عطية بن عروة السعدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عروة بن محمد السعدي عروة بن محمد السعدي ← محمد بن عطية السعدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن بجير المرادي، أبو وائل عبد الله بن بجير المرادي ← عروة بن محمد السعدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إبراهيم بن خالد القرشي، أبو محمد إبراهيم بن خالد القرشي ← عبد الله بن بجير المرادي | ثقة |
محمد بن عطية السعدي ← عطية بن عروة السعدي