مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
669. حديث البراء بن عازب رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 18516
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ وَرِقٍ، أَوْ مِنْحَةَ لَبَنٍ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا، فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ" .
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔ اور جو شخص یہ کلمات کہہ لے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر۔ تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/أول مسند الكوفيين/حدیث: 18516]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن طلحة ضعيف، لكنه توبع
الرواة الحديث:
حدیث نمبر: 18516
قَالَ: وَكَانَ يَأْتِي نَاحِيَةَ الصَّفِّ إِلَى نَاحِيَتِهِ، يُسَوِّي صُدُورَهُمْ، وَمَنَاكِبَهُمْ، يَقُولُ: " لَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ" . قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ" . وَكَانَ يَقُولُ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نمازیوں کے سینے اور کندھے درست کرتے ہوئے آتے تھے اور فرماتے تھے کہ آگے پیچھے مت ہوا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور فرماتے تھے کہ پہلی صفوں والوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ اور فرماتے تھے کہ قرآن کریم کو اپنی آواز سے مزین کیا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند الكوفيين/حدیث: 18516]
عبد الرحمن بن عوسجة الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري