مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
782. ومن حديث جرير بن عبد الله عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 19209
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَارِيجِ فِي السَّوَادِ، فَرَاحتُ الْبَقَرَ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ؟ قَالَ: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ" .
منذربن جریررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوازیج " نامی جگہ میں ایک ریوڑ میں تھا وہاں آگے پیچھے گائیں آجارہی تھیں انہوں نے ایک گائے دیکھی تو وہ انہیں نامانوس معلوم ہوئی انہوں نے پوچھا یہ گائے کیسی ہے؟ چرواہے نے بتایا کہ یہ کسی کی ہے جو ہمارے جانوروں میں آکر مل گئی ہے ان کے حکم پر اسے وہاں سے نکال دیا گیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو وہی آدمی ٹھکانہ دیتا ہے جو خود گمراہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19209]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الضحاك خال المنذر مجهول، وأبو حيان اضطرب فيه
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 19209 in Urdu
المنذر بن جرير البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي