مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
800. حديث أبى موسى الأشعري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19696
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ، فَعَطَسْتُ وَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي، فَأَخْبَرْتُهَا، فَلَمَّا جَاءَهَا، قَالَتْ: عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ، فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا! فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ، فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ تَعَالَى، فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَإِنَّهَا عَطَسَتْ، فَحَمَدَتْ اللَّهَ تَعَالَى، فَشَمَّتُّهَا، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمِّتُوهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا تُشَمِّتُوهُ" ، فَقَالَتْ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ.
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنت ام الفضل کے گھر میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ موجود تھے میں بھی وہاں چلا گیا مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور خاتون کو چھینک آئی تو انہوں نے جواب دیا، میں نے اپنی والدہ کے پاس آکر انہیں یہ بات بتائی جب والد صاحب آئے تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو آپ کے سامنے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اس خاتون کو چھینک آئی تو جواب دے دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے صاحبزادے کو جب چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ نہیں کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب بھی دے دیا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص چھینکنے کے بعد الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب بھی مت دو اس پر والدہ نے کہا آپ نے خوب کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19696]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري