مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
841. حديث مرة البهزي رضي الله عنه
حدیث نمبر: 20372
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ , وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ , وَكَانَا يُغَازِيَانِ، فَحَدَّثَانِي حَدِيثًا، وَلَمْ يَشْعُرْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ , عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟" قَالُوا: نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ:" عَلَيْكُمْ هَذَا وَأَصْحَابَهُ" أَوْ" اتَّبِعُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ" , قَالَ: فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَيِيتُ، فَلَحِقْتُ الرَّجُلَ , فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هَذَا" , فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ:" هَذَا وَأَصْحَابُهُ" وَذَكَرَهُ.
حضرت مرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت کیا کرو گے جب گائے کے سینگوں کی طرح اکناف عالم میں فتنے پھیل پڑیں گے لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم اس وقت کیا کریں؟ اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس سن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے میں اس کے پیچھے چلا گیا اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کرکے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20372]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الرواة الحديث:
أسامة بن خريم البصري ← كعب بن مرة البهزي