مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
920. حديث خباب بن الأرت عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 21077
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: وَسَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِي، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً إِذَا غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَطُّوا رَأْسَهُ"، وَجَعَلْنَا عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا، قَالَ: وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَ الثِّمَارَ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا .
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف اللہ کی رضا کے لئے ہجرت کی تھی لہذا ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا اب ہم میں سے کچھ لوگ دنیا سے چلے گئے اور اپنے اجروثواب میں سے کچھ نہ کھا سکے۔ ان ہی افراد میں حضرت مصعب بن عمیر بھی شامل ہیں جو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہوگئے تھے اور ہمیں کوئی چیز انہیں کفنانے کے لئے نہیں مل رہی تھی صرف ایک چادر تھی جس سے ہم اس کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھلے رہتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اذخر نامی گھاس ڈال دیں اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا پھل تیار ہوگیا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 21077]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3914، م: 940
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 21077 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← خباب بن الأرت التميمي