مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
951. حديث زيد بن ثابت عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 21662
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُصُومَةً، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقِيلَ لَهُ: هَؤُلَاءِ ابْتَاعُوا الثِّمَارَ، يَقُولُونَ: أَصَابَنَا الدُّمَانُ وَالْقُشَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا تَبَايَعُوهَا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا" ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَقَالَ: الْأُدْمَانُ وَالْقُشَامُ.
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم لوگ اس وقت پھلوں کے پکنے سے پہلے ہی ان کی خریدوفروخت کرلیا کرتے تھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت کے لئے اس کا کوئی مقدمہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے؟ بتایا گیا کہ ان لوگوں نے پھل خریدا تھا اب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے حصے میں تو بوسیدہ اور بےکار پھل آگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک پھل پک نہ جایا کرے اس وقت تک اس کی خریدوفروخت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21662]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2193، تعليقا، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 21662 in Urdu
زيد بن ثابت الأنصاري ← سريج بن النعمان الجوهري