مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. ومن حديث ثوبان رضي الله عنه
حدیث نمبر: 22385
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا , قَالَ: لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا" , فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ: نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَتَنَاوَلَهُ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22385]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 22385 in Urdu
عبد الرحمن بن يزيد القرشي ← ثوبان بن بجدد القرشي