مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1022. حديث أبى قتادة الأنصاري رضي الله عنه
حدیث نمبر: 22636
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ أَصْغَى الْإِنَاءَ لِلْهِرَّةِ، فَشَرِبَتْ، فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ" .
کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22636]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الرواة الحديث:
كبشة بنت كعب الأنصارية ← الحارث بن ربعي السلمي