مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حديث حذيفة بن اليمان عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 23321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، قَالَ أَبو نُعَيْمٍ: عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ مِثْلَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بيْنَ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبةِ مَا يَكُونُ بيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ كَمْ كَانَ أَصْحَاب الْعَقَبةِ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: أَخْبرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ: فَقَالَ الرَّجُلُ: كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ، قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ: فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ باللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْب لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ: الْأَشْهَادُ وَعَدَّنَا ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ، فَلَا يَسْبقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ"، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبقُوهُ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ معمولی سی تکرار ہوگئی تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوجاتی ہے انہوں نے پوچھا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے لوگ کتنے تھے؟ لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب یہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ انہیں بتا دیجئے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ چودہ آدمی تھے اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو ان کی تعداد پندرہ ہوجاتی ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں بارہ آدمی دنیا کی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن اللہ اور اس کے رسول کے لئے جنگ ہیں۔ اور تین لوگوں کی طرف سے عذر بیان کیا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کا اعلان نہیں سنا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اس کی وضاحت ابو احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23321]
حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2779
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل عامر بن واثلة الليثي ← حذيفة بن اليمان العبسي | له إدراك | |
👤←👥الوليد بن عبد الله الزهري الوليد بن عبد الله الزهري ← عامر بن واثلة الليثي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← الوليد بن عبد الله الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد محمد بن عبد الله الزبيرى ← الفضل بن دكين الملائي | ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري |
Musnad Ahmad Hadith 23321 in Urdu
عامر بن واثلة الليثي ← حذيفة بن اليمان العبسي