مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1114. حديث عبد الله بن سلام رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23787
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ، فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهمَا، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثْتُهُ فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ، قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ؟ إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا، وَسْطُهَا عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ، فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لِيَ: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: هُوَ الْوَصِيفُ، فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي، فَقَالَ: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى، أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ" ، قَالَ: وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ .
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوگیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کردیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبز و شاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23787]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3813، م: 2484
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن سلام الخزرجي، أبو يوسف | صحابي | |
👤←👥قيس بن عباد القيسي، أبو عبد الله قيس بن عباد القيسي ← عبد الله بن سلام الخزرجي | ثقة | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← قيس بن عباد القيسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد إسحاق بن يوسف الأزرق ← عبد الله بن عون المزني | ثقة مأمون |
قيس بن عباد القيسي ← عبد الله بن سلام الخزرجي