مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1255. من حديث خباب بن الأرت رضي الله عنه
حدیث نمبر: 27214
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِي، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً، إِذَا غَطَّوْا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَْهِ، بَدَا رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَطُّوا رَأْسَهُ" , وَجَعَلْنَا عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا ، قَالَ: وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَ الثِّمَارَ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا.
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف اللہ کی رضا کے لئے ہجرت کی تھی، لہٰذا ہمارا اجر اللہ کے ذمے ہو گیا، اب ہم میں سے کچھ لوگ دنیا سے چلے گئے اور اپنے اجر و ثواب میں سے کچھ نہ کھا سکے، ان ہی افراد میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، جو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ہمیں کوئی چیز انہیں کفنانے کے لئے نہیں مل رہی تھی، صرف ایک چادر تھی جس سے اگر ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھلے رہتے اور پاؤں ڈھانپتے تو سر کھلا رہ جاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اذخرنامی گھاس ڈال دیں اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا پھل تیار ہو گیا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27214]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1276 ، م: 940
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 27214 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← خباب بن الأرت التميمي