🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1323. -بقية حديث أبي الدرداء رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ , يُحَدِّثُ , قالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ وَفِّقْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ , فَإِذَا هُوَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 1 - 3 , فَقُلْتُ: كَانَ يَقْرَؤُهَا: " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , فَمَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي , ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ وَالسِّوَاكِ؟ يَعْنِي: عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ مَسْعُودٍ , أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مِنَ الشَّيْطَان؟ يَعْنِي: عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ , أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ وَلَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ؟ يَعْنِي: حُذَيْفَةَ .
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام میں دمشق کی جامع مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27549]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداء
Newعويمر بن مالك الأنصاري ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عويمر بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم
Newالمغيرة بن مقسم الضبي ← إبراهيم النخعي
ثقة مدلس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← المغيرة بن مقسم الضبي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
Musnad Ahmad Hadith 27549 in Urdu