یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 4727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ، فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا، وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا، قَالَ: فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَرَآهَا مُهْتَمَّةً، فَقَالَ: مَالَكِ؟ فَقَالَتْ: جَاءَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا، فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا! فَقَالَ:" وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا، وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ"، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ؟ فَقَالَ:" قُلْ لَهَا تُرْسِلُ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے ان کے گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا تو وہیں سے واپس ہو گئے، بہت کم ایسا ہوا ہوتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جاتے اور ان سے ابتداء نہ کرتے، الغرض! تھوڑی دیر بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا غمگین دکھائی دیں، انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ وہ بولیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے، لیکن گھر کے اندر نہیں آئے (اور باہر سے ہی واپس ہو گئے)۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! فاطمہ نے اس چیز کو اپنے اوپر بہت زیادہ محسوس کیا ہے کہ آپ ان کے پاس آئے بھی اور گھر میں داخل نہ ہوئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا غرض، مجھے ان منقش پردوں سے کیا غرض؟“ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا، انہوں نے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو کہ اسے بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4727]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2613
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥الفضيل بن غزوان الضبي، أبو الفضل الفضيل بن غزوان الضبي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← الفضيل بن غزوان الضبي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة |
Musnad Ahmad Hadith 4727 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي