مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَأَبَيْتُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَأَبَى، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ،" طَلِّقْ امْرَأَتَكَ"، فَطَلَّقْتُهَا.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں میری جو بیوی تھی، مجھے اس سے بڑی محبت تھی، لیکن وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے اسے طلاق دینے میں لیت و لعل کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اور عرض کیا، یا رسول اللہ!! عبداللہ بن عمر کے نکاح میں جو عورت ہے، مجھے وہ پسند نہیں ہے، میں اسے کہتا ہوں کہ اسے طلاق دے دے، تو وہ میری بات نہیں مانتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ عبداللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5011]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 5011 in Urdu
حمزة بن عبد الله المدني ← عبد الله بن عمر العدوي